کاروار27؍اگست (ایس او نیوز) پچھلے دنوں نندن گدّا علاقے میں ایک نوجوان کو آوارہ کتوں کے ذریعے چیر پھاڑکر کھانے کا جو دلدوز واقعہ پیش آیا تھا اس کے بعدسرکاری محکمہ جات کی آنکھیں کھل گئی ہیں اورانہوں نے عوام کو درپیش آوارہ کتوں کی مصیبت اور دہشت سے نجات دلانے کی کوشش کے طور پر کتوں کی نسبندی کرتے ہوئے ان کی افزائش نسل پر روک لگانے کا آغاز کیا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق کاروار میونسپل کارپوریشن کے کمشنرایس یوگیشور نے ہبلی دھارواڑ اینیمل ویلفیئر فنڈ نامی ایک غیر سرکاری ادارے (این جی او) کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے آوارہ کتوں کی آبادی پر روک لگانے کا اقدام شروع کیا ہے جس کے تحت اتوار کے دن صبح کے وقت کاروار شہر کے سویتا سرکل، فلاوور چوک اور گاندھی مارکیٹ علاقے میں آوارہ کتوں کو جال میں پھانس کر پکڑا گیا ۔اس کارروائی میں کاروار میونسپل کارپوریشن کے ساتھ محکمہ اینیمل ہسبنڈرینے تعاون کیا۔ پھران پکڑے گئے کتوں کو تعلقہ ویٹرینری اسپتال لے جایا گیا جہاں پر ضلع کے مختلف تعلقہ جات کے پانچ ویٹرینری ڈاکٹروں نے ان کتوں کا آپریشن کرتے ہوئے ان کی نس بندی کردی۔ساتھ ہی ساتھ ان کتوں سے ہونے والی خطرناک بیماری ’ریابیس‘ کے جراثیم سے بچانے کے انہیں ’اینٹی ریابیس‘ ویکسی نیشن بھی دیا گیا۔

میونسپل کارپوریشن کے افسر نے بتایا ہے کہ آپریشن کے بعد کتوں شیرواڈ میں کچرا نکاسی مرکز کے پاس موجود ایک کمرے میں تین دن تک رکھا جائے گا۔ وہاں انہیں اچھی غذا فراہم کی جائے گی اس کے بعد پھر انہیں اسی مقام پر چھوڑ دیا جائے گا جہاں سے پکڑا گیا تھا۔آئندہ ہفتے بھی آوارہ کتوں کو اسی طرح جال میں پھانسنے کے لئے ٹیم شہر میں پہنچے گی۔ اس کام کے لئے ٹینڈر طلب کیا گیا ہے اس کی کارروائی مکمل ہوتے ہی یہ کتوں کی بڑھتی ہوئی ہراسانی سے شہر کے عوام کو نجات دلانے کی مہم مسلسل چلائی جائے گی۔